حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ ، فَلَبِثَتْ زَمَانًا لا تُصَلِّي ، فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ خَافَتْ أَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَلا تَكُونُ لَهَا فِي الإِسْلامِ حَظٌّ أَلْبَثُ زَمَانًا لا أَقْدِرُ عَلَى صَلاةٍ مِنَ الدَّمِ ، فَقَالَتْ لَهَا : امْكُثِي حَتَّى يَدْخُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْأَلِينَهُ عَمَّا سَأَلْتِنِي عَنْهُ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ ، ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ وَتَلْبَثُ الزَّمَانَ لا تَقْدِرُ عَلَى الصَّلاةِ ، وَتَخَافُ أَنْ تَكُونَ قَدْ كَفَرَتْ أَوْ لَيْسَ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ فِي الإِسْلامِ حَظٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلاةِ عَدَدَ قُرْئِهَا ، فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً ، تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ ، ثُمَّ الطَّهُورِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ وَتُصَلِّي فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا " . قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ : فَسَأَلْنَا هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، فَأَخْبَرَنِي بِنَحْوِهِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ أَبُو الأَشْعَثِ فِي الإِسْنَادِ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ خَالَتُهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ.ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہوئی۔ انہوں نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں: ”اے ام المؤمنین! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں جہنمی نہ ہو جاؤں اور ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہ رہے۔ ایک بڑا عرصہ گزر چکا ہے جس میں میں نے نماز نہیں پڑھی۔ مجھے استحاضہ کا خون خارج ہوتا ہے۔“ سیدہ عائشہ نے کہا: ”تم ٹھہر جاؤ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو آپ سے اس طرح دریافت کرنا جس طرح مجھ سے ذکر کیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ فاطمہ بنت ابوحبیش ہے۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ اس کو استحاضہ کی شکایت ہے اور یہ کافی عرصے سے نماز ادا کرنے پر قادر نہیں ہو سکی۔ اسے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں یہ کافر نہ ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہ رہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم فاطمہ سے کہو کہ وہ ہر مہینے میں اپنے حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کر دے۔ جب وہ مخصوص ایام گزر جائیں تو وہ ایک مرتبہ غسل کر کے اپنی شرمگاہ پر روئی رکھ کر اس پر ایک چوڑی پٹی باندھ لے تاکہ (خون باہر نہ نکلے)۔ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے۔ اسے جو چیز لاحق ہوئی ہے وہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہو گئی ہے یا کوئی بیماری ہے جو اسے لاحق ہو گئی ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔