حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ " ، فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَتِ الصُّفْرَةَ فَوْقَ الْمَاءِ ، فَقَالَ : " تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَيْنَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابوحبیش کو اتنے عرصے سے استحاضہ کی شکایت ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے! یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اسے کسی بڑے برتن میں بیٹھنا چاہیے۔“ وہ خاتون اس پر بیٹھی تو اس کے حیض کی زردی غالب آ گئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ ظہر اور عصر کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے۔ پھر فجر کے لیے الگ سے غسل کرے اور اس کے درمیان میں وضو کر لیا کرے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحيض / حدیث: 839
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 623، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 296، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1687، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 839، 840، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 632، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2730، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 370»