حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيَّ ، يَقُولُ : وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ هَذَا ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ وَقَفَهُ عَنِ الأَعْمَشِ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ ، وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ أَيْضًا أَنَّ الزُّهْرِيَّ رَوَاهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، هَذَا كُلُّهُ قَوْلِ أَبِي دَاوُدَ.امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اعمش سے منقول حدیث ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ وہ یہ ہے: حفص نامی راوی نے اسے موقوف روایت کے طور پر اعمش سے نقل کیا ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے اور اس بات کا بھی انکار کیا ہے کہ اس میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا ذکر ہے۔ حدیث کی عروہ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے ضعیف ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے۔ زہری نے اس روایت کو عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی۔ یہ تمام بیان امام ابوداؤد کا ہے۔