حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : جِئْنَا مِنْ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ إِلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ قُلْنَا : مِنْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ ، فَقَالَ : مَا حَدَّثَكُمْ ؟ قُلْنَا حَدَّثَنَا عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . الْحَدِيثَ . فَقَالَ يَحْيَى : أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا زَعَمَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا .عبدالرحمن بن بشر بیان کرتے ہیں: ہم عبداللہ بن داؤد کے پاس سے اٹھ کر یحییٰ بن سعید کے پاس آئے تو انہوں نے دریافت کیا: ”تم لوگ کہاں سے آئے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”عبداللہ بن داؤد کے پاس سے آ رہے ہیں۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”انہوں نے تمہیں حدیث سنائی؟“ تو ہم نے جواب دیا: ”انہوں نے اعمش کے حوالے سے حبیب کے حوالے سے، عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنائی۔“ تو یحییٰ بولے: ”اس بارے میں سفیان ثوری کو سب سے زیادہ علم ہے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: حبیب نامی راوی نے عروہ بن زبیر سے کوئی حدیث نہیں سنی ہے۔“