حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا ابْنُ كَرَامَةَ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنِي أبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ ؟ قَالَ : " لا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاةَ فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي وَصَلِّي " . وَقَالَ يَحْيَى : " وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي " ، زَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : قَالَ هِشَامٌ ، قَالَ أَبِي : ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت ابوحبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں ایک ایسی عورت ہوں جو استحاضہ میں مبتلا ہے۔ میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز ترک کر دوں؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ ایک دوسری رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے۔ جب حیض آئے تو نماز پڑھنا ترک کر دو۔ جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کرنا شروع کرو۔“ یحییٰ نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ”جب وہ رخصت ہو جائے تو اپنے جسم سے خون دھو کر نماز ادا کر لو۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: ہشام بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: ”پھر تم ہر نماز کے لیے وضو کرو، یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحيض / حدیث: 788
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 228، 306، 320، 325، 331، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 333، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 198، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1348، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 622، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 201 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 280، 281، 282، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 125، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 620، 621، 624، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 787، 788، 789، 790، 791، 792، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 193،والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 230، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24779»