سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، نا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْخُفَّيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا " .محمد محی الدین
عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ فرمایا کہ: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ موزوں کا نیچے والا حصہ اوپر والے حصے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اوپر والے حصے پر مسح کیا ہے۔“