سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلانُ ، قَالا : نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ لَوْ كَانَ دِينُ اللَّهِ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْخُفَّيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاهُ ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا " . وَاللَّفْظُ لابْنِ مَخْلَدٍ.محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”اگر اللہ کے دین کے احکام رائے کے مطابق ہوتے تو موزوں کا نیچے والا حصہ مسح کرنے کا اوپر والے حصے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہوتا، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ روایت کے الفاظ ابن مخلد نامی راوی کے ہیں۔