سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَرَأْتُ كِتَابًا لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ ، فَقَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلا يَخْلَعْهُمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " .محمد محی الدین
عمر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن یسار کی کتاب میں پڑھا جو عطاء بن یسار کے پاس تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں، سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا۔ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا آدمی ہمیشہ اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، ان دونوں کو اتارے ہی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“