سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بِفَتْحِ دِمَشْقَ ، قَالَ : وَعَلَيَّ خُفَّانِ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : " كَمْ لَكَ يَا عُقْبَةُ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ ؟ " ، فَتَذَكَّرْتُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ : مُنْذُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ ، قَالَ : " أَحْسَنْتَ ، وَأَصَبْتَ السُّنَّةَ " .محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ دمشق کی فتح کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے موزے پہنے ہوئے تھے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اے عقبہ! تم نے کتنے دنوں سے اپنے موزے نہیں اتارے؟“ تو مجھے یاد آیا کہ: ”میں نے پچھلے جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک پہنے ہوئے تھے۔“ میں نے بتایا: ”آٹھ دنوں سے۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ: ”تم نے ٹھیک کیا اور سنت کے مطابق کیا ہے۔“