سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ عُمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ ، وَأَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ " أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : " يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : " وَيَوْمَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَثَلاثًا " ، قَالَ : ثَلاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا بَدَا لَكَ " . هَذَا الإِسْنَادُ لا يُثْبَتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اخْتِلافًا كَثِيرًا قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ ، مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.عبادہ بن نسئی، ابی کے حوالے سے جو ابن عمارہ ہیں، یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمارہ کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں اپنے موزوں پر مسح کر لوں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایک دن تک؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کر سکتے ہو۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! دو دن تک؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کر سکتے ہو۔“ اور تین دن تک بھی۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! تین دن تک بھی؟“ یہاں تک کہ انہوں نے سات دن تک پوچھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنا تمہیں مناسب لگے۔“ اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ یحییٰ بن ایوب نامی راوی سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے، جو میں نے کسی اور مقام پر ذکر کیا ہے۔ اس روایت کے راوی عبدالرحمن، محمد بن یزید، اور ایوب بن قحطن، سب مجہول ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔