سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَيُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيَمْسَحُ أَحَدُنَا عَلَى خُفَّيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " .محمد محی الدین
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس شخص نے ان دونوں کو باوضو حالت میں داخل کیا ہو۔“