سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ فَقُلْتُ : جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ " ، قَالَ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلاثًا إِذَا سَافَرْنَا ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا ، وَلا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلا غَائِطٍ وَلا نَوْمٍ وَلا نَخْلَعَهُمَا إِلا مِنْ جَنَابَةٍ " ، قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ ، مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً ، لا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ " .زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ: ”میں علم کے حصول کے لیے آیا ہوں۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ زر نے کہا کہ: ”میں اس لیے آیا ہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں۔“ تو انہوں نے جواب دیا کہ: ”میں اس لشکر میں شامل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر بھیجا تھا اور ہمیں ہدایت کی تھی کہ تم اپنے موزوں پر مسح سفر کے دوران تین دن تک اور قیام کے دوران ایک دن اور ایک رات تک کر سکتے ہو، جب کہ ہم نے انہیں باوضو حالت میں پہنا ہو اور ہم انہیں پیشاب کرنے، پاخانہ کرنے یا سونے کے بعد اٹھ کر وضو کرتے ہوئے نہیں اتاریں گے، ہم انہیں صرف جنابت کی حالت میں اتاریں گے۔“ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لیے کھلا ہوا ہے، جس کی چوڑائی ستر برس کی مسافت جتنی ہے۔ یہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اس کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا۔“