حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ ، بِمِصْرَ ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : " مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِي رِجْلَيْكَ ؟ " ، قُلْتُ : يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : " فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " أَصَبْتَ السُّنَّةَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : وَهُوَ صَحِيحُ الإِسْنَادِ.
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں جمعہ کے دن مدینہ منورہ جانے کے لیے شام سے روانہ ہوا اور جمعہ کے دن ہی مدینہ منورہ پہنچا۔ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ: ’تم نے اپنے پاؤں میں موزے کب سے پہنے ہیں؟‘ میں نے جواب دیا کہ: ’گزشتہ جمعہ کے دن۔‘ انہوں نے دریافت کیا کہ: ’کیا تم نے انہیں اتارا تھا؟‘ میں نے جواب دیا کہ: ’نہیں!‘ تو انہوں نے فرمایا کہ: ’تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔‘“ شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں کہ اس کی سند مستند ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 757
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 646، 647، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1351،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 756، 757، 766، 767، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 738»
«قال الدارقطني: صحيح الإسناد ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 175)»