حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالا : نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : بَالَ جَرِيرٌ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ بُلْتَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " . قَالَ الأَعْمَشُ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ : فَكَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ ؛ لأَنَّ جَرِيرًا كَانَ إِسْلامُهُ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ، هَذَا حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ : فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَمْرٍو أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ بُلْتَ ؟ فَقَالَ : وَمَا يَمْنَعُنِي ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ " . وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ ذَلِكَ ، لأَنَّ إِسْلامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا۔ تو ان سے کہا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ہے، آپ پہلے پیشاب کر چکے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پیشاب کیا، پھر اس کے بعد آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔“ اعمش نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے سورہ مائدہ نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ عیسیٰ بن یونس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ نقل کیا ہے کہ ان سے کہا گیا: ”اے ابوعمرو! آپ ایسا کر رہے ہیں، آپ نے پہلے پیشاب کیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ: ”مجھے اس بات سے کون سی چیز منع کرے گی جب کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو یہ روایت بہت پسند تھی کیونکہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔