سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِصَاحِبِ الْجَرَّاحِ مَعَ اسْتِعْمَالِ الْمَاءِ وَتَعْصِيبِ الْجَرْحِ باب: : زخمی شخص کے لیے پانی استعمال کرنے اور زخم پر متی کے ہمراہ، تیمم کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 730
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمُ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَجُلا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ عَلَى عَهْدِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فَاسْتَفْتَى ، فَأُفْتِيَ بِالْغُسْلِ ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ ؟ " . قَالَ عَطَاءٌ : فَبَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ بَعْدُ ، فَقَالَ : " لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَتْهُ الْجِرَاحُ أَجْزَاءَهُ " .محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے: ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں زخم لگ گیا۔ اسے جنابت لاحق ہوئی۔ اس نے مسئلہ دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ اسے غسل کرنا ہو گا، اس نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار دیا ہے۔ اللہ ان کو برباد کرے۔ کیا بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں نہیں ہے۔“