سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ سِنِينَ كَثِيرَةً باب: : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا ابْنُ حَنَانٍ ، قَالَ الشَّيْخُ : ابْنُ حَنَانٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ الْحِمْصِيُّ ، ثنا بَقِيَّةُ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وُضُوءٌ وَلَوْ عَشْرَ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَامْسَسْهُ جِلْدَكَ " . كَذَا قَالَ رَجَاءُ بْنُ عَامِرٍ ، وَالصَّوَابُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، كَمَا قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ.محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اگرچہ دس برس تک آدمی کو پانی نہ ملے۔ جب تم پانی پالو اسے اپنی جلد پر بہا لو۔“ رجاء بن عامر نامی راوی نے اس طرح بیان کیا ہے تاہم درست یہ ہے کہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات منقول ہے جیسے کہ ابن علیہ نے ابن ایوب نامی راوی سے اسے نقل کیا ہے۔