سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ سِنِينَ كَثِيرَةً باب: : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 723
قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَلُوسِيُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالا : نا خَلَفُ بْنُ مُوسَى الْعَمِّيُّ ، نا أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ طَهُورٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ بَشْرَتَكَ " .محمد محی الدین
مہلب، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! بیشک مٹی اس شخص کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جسے پانی نہیں ملتا خواہ دس برس تک نہ ملے۔ جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈال لو۔“