حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَيَّارٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، قَالا : نا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّهُ أَجْنَبَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَتَمَعَّكَ فِي التُّرَابِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِكَفَّيْكَ فِي التُّرَابِ ، ثُمَّ تَنْفُخَ فِيهِمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ إِلَى الرُّسْغَيْنِ " . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُصَيْنٍ مَرْفُوعًا ، غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، وَوَقَفَهُ شُعْبَةُ ، وَزَائِدَةُ وَغَيْرُهُمَا ، وَأَبُو مَالِكٍ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عَمَّارِ نَظَرٌ ، فَإِنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ قَالَ فِيهِ عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَهُ الثَّوْرِيُّ عَنْهُ.
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ سفر کے دوران جنبی ہو گئے تو مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کو اس بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمار! تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہوتا کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں کو مٹی پر مارتے پھر ان پر پھونک مارتے پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے اور کلائیوں تک اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کر لیتے۔“ اس روایت کو مرفوع روایت کے طور پر ابراہیم نامی راوی نے نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اس کو موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کے راوی ابومالک کا سیدنا عمار سے احادیث کا سماع محل نظر ہے کیونکہ دیگر راویوں نے اس ابومالک کے حوالے سے ابن ابزی کے حوالے سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 701
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 338، 339، 340، 341، 342، 343، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 368، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 266، 267، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1267، 1303، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 311 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 322، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 144، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 772، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 693، 696، 697، 698، 699، 700، 701، 702، 703، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18605، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 144، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 1605»