حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، قَالُوا : نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلاسِلِ ، فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " يَا عَمْرُو ، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ " ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الاغْتِسَالِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَقُلْ لِي شَيْئًا . وَالْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے سردیوں کی رات میں احتلام ہوا۔ یہ غزوہ ذات السلاسل کی بات ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے دریافت کیا: ”اے عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟“ میں نے آپ کو وہ وجہ بتائی جس نے مجھے غسل سے روکا تھا۔ میں نے عرض کیا: میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تمہارے بارے میں بڑا رحم فرمانے والا ہے۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور کچھ نہ فرمایا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 681
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1315، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 633، 634، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 334، بدون ترقيم، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1087، 1088، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 681، 682، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18091، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 878، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2457»