حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، نا نَافِعٌ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَاجَةٍ لابْنِ عُمَرَ ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ ، وَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ ، ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلامَ إِلا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ " .نافع بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی کام کے سلسلے میں ان کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا مقصد بیان کر دیا، تو اس کے بعد اس دن کی گفتگو میں انہوں نے یہ بات بیان کی: ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، یہ گلی کی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پاخانہ کر کے یا پیشاب کر کے تشریف لا رہے تھے۔ اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ وہ شخص گلی سے باہر نکلنے والا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک دیوار پر پھیر کر اپنا چہرہ مبارک کا مسح کیا، پھر دوبارہ پھیر کر اپنے دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں اس لیے سلام کا جواب نہیں دیا، کیونکہ میں باوضو حالت میں نہیں تھا۔“