سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، قَالَ : خَرَجَ أَبُو مُوسَى فِي وَفْدٍ فِيهِمْ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ أَعْوَرُ ، فَصَلَّى أَبُو مُوسَى فَرَكَعُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ فَتَرَدَّى الأَعْوَرُ فِي بِئْرٍ ، قَالَ الأَحْنَفُ : فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَتَرَدَّى فِيهَا فَمَا مِنَ الْقَوْمِ إِلا ضَحِكَ غَيْرِي ، وَغَيْرَ أَبِي مُوسَى فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " مَا بَالُ هَؤُلاءِ ؟ " ، قَالُوا : فُلانٌ تَرَدَّى فِي بِئْرٍ ، " فَأَمَرَهُمْ فَأَعَادُوا الصَّلاةَ " .حمید بن ہلال فرماتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک وفد کے ہمراہ روانہ ہوئے، اس وفد میں عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک نابینا شخص بھی تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، سب لوگ رکوع میں گئے، انہوں نے اپنے سر جھکائے، ان کی پشت پر موجود نابینا شخص کنویں میں گر گیا۔ احنف نامی راوی بیان کرتے ہیں: جب میں نے اس کی آواز سنی کہ وہ کنویں میں گر گیا ہے، تو حاضرین میں سے میرے اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر شخص ہنس پڑا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی اور دریافت کیا: ان لوگوں کو کیا ہوا تھا؟ ان لوگوں نے بتایا: فلاں شخص گڑھے میں گر گیا تھا، تو سیدنا ابوموسیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ نماز ادا کریں۔