سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ باب: جب کنویں میں کوئی جانور گرجائے
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ : أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ ، يَعْنِي فَمَاتَ ، فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ ، قَالَ : فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ ، فَأَمَرَ بِهَا فَدُسِمَتْ بِالْقُبَاطِيِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ " .محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک حبشی زم زم کے کنویں میں گر گیا، یعنی گر کے مر گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم کے تحت اس کی لاش کو باہر نکالا گیا اور کنویں کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ ہدایت دی کہ اسے صاف کر دیا جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لیکن چشمے کا پانی لوگوں کے قابومیں نہیں آیا، وہ رکن (حجر اسود) کی طرف سے آ گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے بارے میں ہدایت کی: وہ پوری طرح سے کپڑوں کے ذریعے بند کیا جائے، یہاں تک کہ وہ مکمل بند ہو جائے، جب لوگوں نے اسے بند کیا تو پھر اس میں سے پانی باہر نکل آیا۔