سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ باب: : اہل کتاب کے پانی سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا ابْنُ خَلادِ بْنِ أَسْلَمَ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، تَوَضَّأَ مِنْ بَيْتِ نَصْرَانِيَّةٍ أَتَاهَا ، فَقَالَ : أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ ، أَسْلِمِي تَسْلَمِي بَعَثَ اللَّهُ بِالْحَقِّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَشَفَتْ عَنْ رَأْسِهَا ، فَإِذَا مثل الثَّغَامَةِ ، فَقَالَتْ : عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ وَأَنَا أَمُوتُ الآنَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ أشْهَدْ " .محمد محی الدین
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عیسائی کے گھر سے وضو کیا، پھر آپ اس خاتون کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: ”اے بڑی بی! اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گی، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔“ اس عورت نے اپنے سر سے چادر ہٹائی تو (اس کے بال ثغامہ پھول کی طرح سفید) تھے، اس بوڑھی عورت نے کہا: اب تو میں مرنے والی ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا۔“