سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، فِيمَا أَرَى عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلاةَ الْفَجْرِ أَوْ بَعْضَ صَلاةِ اللَّيْلِ ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ بِئْرٌ ، وَكَانَ رَجُلٌ فِي بَصَرِهِ ضُرٌّ فَوَقَعَ فِيهَا ، فَضَحِكَ النَّاسُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " مِمَّا ضَحَكْتُمْ ؟ " ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : " مَنْ ضَحِكَ فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " .محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے یا شام کی نماز پڑھا رہے تھے، مسجد میں گڑھا تھا، ایک شخص، جس کی نظر کمزور تھی، وہ گڑھے میں گر گیا، تو بعض لوگ ہنس پڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی اور لوگوں سے ہنسنے کی وجہ پوچھی، تو انہوں نے وجہ بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہنسا تھا، وہ دوبارہ وضو کرے اور نماز ادا کرے۔“