سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الْمَاءِ الْمُتَغَيِّرِ باب: : وہ پانی جو تبدیل ہوچکا ہو
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، مَرَّا بِحَوْضٍ ، فَقَالَ عَمْرٌو : " يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ ، أَتَرِدُ عَلَى حَوْضِكَ هَذَا السِّبَاعُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ ، لا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا " .محمد محی الدین
ابوسعید اور یحییٰ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایک حوض کے پاس سے گزرے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے حوض کے مالک! کیا تمہارے اس حوض پر درندے بھی آ کر پانی پیتے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے حوض کے مالک! تم ہمیں اس بارے میں نہ بتاؤ (کیونکہ اس طرح کے حوض سے پانی پینے کے لیے) کبھی ہم درندوں کے بعد آ جاتے ہیں اور کبھی وہ ہمارے بعد آ جاتے ہیں۔“