سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، نا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فِي بَصَرِهِ ضُرٌّ ، أَوْ قَالَ : أَعْمَى فَوَقَعَ فِي بِئْرٍ ، فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَأَمَرَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " . فَذَكَرْتُهُ لِحَفْصِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، فَقَالَ : أَنَا حَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، فَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، مُرْسَلا .سیدنا حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا، جس کی نظر کمزور تھی، (راوی کو شک ہے) کہ وہ نابینا تھا، وہ کنویں میں گر گیا، بعض لوگ ہنس پڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنسنے والوں کو دوبارہ نماز پڑھنے اور وضو کرنے کا حکم دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ حفص بن سلمان سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ روایت حسن بصری کو حفصہ (بنت سیرین) کے حوالے سے سنائی تھی، اور درست یہ ہے، یہ روایت حسن بصری سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔“