سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، نا أَيُّوبُ بْنُ خُوطٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، فَجَاءَ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَوَطِئَ فِي خَبَالٍ مِنَ الأَرْضِ فَصُرِعَ ، فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " . وَالصَّوَابُ مِنْ ذَلِكَ قَوْلُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، مُرْسَلا.محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، اسی دوران ایک نابینا شخص آیا، وہ ایک گڑھے میں گر گیا اور چلانے لگا، بعض لوگ ہنس پڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنسنے والوں کو دوبارہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اس بارے میں اس شخص کا بیان درست ہے، جس نے اسے قتادہ کے حوالے سے، ابوالعالیہ کے حوالے سے مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔