سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الدَّانَاجُ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو الأَحْوَصِ الأَبْرَمُ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ ، نا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ، قَالُوا : نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، نا سَلامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ أَعْمَى تَرَدَّى فِي بِئْرٍ ، فَضَحِكَ نَاسٌ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " . وَقَالَ أَبُو أُمَيَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَدَخَلَ أَعْمَى الْمَسْجِدَ فَتَرَدَّى فِي بِئْرٍ فَضَحِكَ النَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ ابْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، وَبِئْرٌ وَسَطَ الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَ أَعْمَى فَوَقَعَ فِيهَا ، فَضَحِكَ نَاسٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " . قَالَ أَبُو أُمَيَّةَ : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَلامٍ غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ . وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خُوطٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص کنویں میں گر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز ادا کرنے والے) کچھ لوگ ہنس پڑے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنسنے والوں کو دوبارہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ ابوامیہ نے یہ بات بیان کی ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، اسی دوران ایک نابینا شخص مسجد میں داخل ہوا، وہ ایک کنویں میں گر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کچھ لوگ ہنس پڑے۔ ابن مخلد نے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اور ابوالعالیہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، مسجد کے درمیان میں ایک کنواں تھا، ایک نابینا شخص آیا، وہ اس میں گر گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ ہنس پڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنسنے والوں کو دوبارہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ ابوامیہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں: اس روایت کو سلام سے عبدالرحمن نے نقل کیا ہے، یہ شخص متروک ہے، جو احادیث وضع کرتا ہے۔ اس روایت کو داؤد بن محبر نے نقل کیا ہے، یہ شخص بھی متروک ہے، جو احادیث وضع کرتا ہے، اس نے اس روایت کو ایوب کے والد سے نقل کیا ہے، جو ضعیف ہے، انہوں نے قتادہ کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔