سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ الْكُوفِيُّ ، بِمِصْرَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَوَقَعَ فِي حُفْرَةٍ ، فَضَحِكْنَا مِنْهُ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الْوُضُوءِ كَامِلا وَإِعَادَةِ الصَّلاةِ مِنْ أَوَّلِهَا " . قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ مثل ذَلِكَ . الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفَانِ ، وَكِلاهُمَا قَدْ أَخْطَأَ فِي هَذَيْنِ الإِسْنَادَيْنِ وَإِنَّمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِنْقَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، مُرْسَلا ، وَكَانَ الْحَسَنُ كَثِيرًا مَا يَرْوِيهِ مُرْسَلا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا قَوْلُ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَوَهْمٌ قَبِيحٌ ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَوَاهُ عَنْهُ كَذَلِكَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَهُشَيْمٌ ، وَوُهَيْبٌ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَغَيْرُهُمْ . وَقَدِ اضْطَرَبَ ابْنُ إِسْحَاقَ فِي رِوَايَتِهِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ دِينَارٍ لِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَمَرَّةً رَوَاهُ عَنْهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، وَمَرَّةً رَوَاهُ عَنْهُ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَتَادَةُ . إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، مُرْسَلا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَذَلِكَ رَوَاهُ عَنْهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَمَعْمَرٌ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَغَيْرُهُمْ . وَيَذْكُرُ أَحَادِيثَهُمْ بِذَلِكَ بَعْدَ هَذَا.ابوملیح اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے، اس دوران ایک شخص آیا، جو نابینا تھا، وہ گڑھے میں گر گیا، تو ہم ہنس پڑے، تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوبارہ مکمل وضو کرنے اور نئے سرے سے نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، اس میں حسن بن دینار اور حسن بن عمارہ دونوں راوی ضعیف ہیں، انہوں نے اس کی سند میں غلطی کی ہے۔ حسن بصری نے اس روایت کو حفصہ بنت سلمان کے حوالے سے، ابوالعالیہ کے حوالے سے روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ حسن بکثرت مرسل روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ یہاں تک حسن بن عمارہ کا اس روایت سے تعلق ہے، انہوں نے خالد کے حوالے سے ابوولید کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے اس بات کو نقل کیا ہے، تو یہ بہت قبیح وہم ہے۔ اس روایت کو خالد نے حفصہ بنت سیرین اور ابوالعالیہ کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ سفیان ثوری، حماد بن سلمہ اور دیگر راویوں نے بھی اسی طرح ان کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ ابن اسحاق نے اپنی روایت میں حسن بن دینار سے منقول ہونے کے حوالے سے اضطراب نقل کیا ہے، بعض اوقات ان کے حوالے سے ابوقتادہ کے حوالے سے، ابوالملیح کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ قتادہ نے اس روایت کو ابوالعالیہ کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ سعد بن ابوعروبہ، معمر، ابوعوانہ، سعد بن بشیر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور دیگر راویوں نے ان کے حوالے سے نقل کیا ہے، اس کے بعد ہم ان حضرات کی حدیث کو ذکر کریں گے۔