سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ قَاعِدًا وَقَائِمًا وَمُضْطَجِعًا وَمَا يَلْزَمُ مِنَ الطَّهَارَةِ فِي ذَلِكَ باب: : جو شخص کھڑے ہوئے ، بیٹھے ہوئے یا لیت کر سو جائے، اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اس سے طہارت کا لازم ہونا
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، نا أَبُو خَالِدٍ الدَّالانِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْوُضُوءَ لا يَجِبُ إِلا عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ " . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَلا يَصِحُّ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، آپ اس وقت سجدے کی حالت میں تھے، یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ تو سو گئے تھے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وضو کرنا اس شخص پر لازم ہے، جو لیٹ کر سوتا ہے، کیونکہ جب وہ لیٹ کر سوتا ہے، تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“ اس روایت کو ابوقتادہ کے حوالے سے نقل کرنے میں ابوخالد منفرد ہے، یہ روایت معتبر نہیں ہے۔