سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 583
نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو سَهْلٍ ، نا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْقَطْرَةِ وَالْقَطْرَتَيْنِ مِنَ الدَّمِ وُضُوءٌ حَتَّى يَكُونَ دَمًا سَائِلا " . مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ضَعِيفَانِ.محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک قطرہ یا دو قطرے خون ظاہر ہونے سے وضو لازم نہیں ہوتا، جب تک وہ خون بہنے نہ لگ پڑے (اس وقت تک لازم نہیں ہوتا)۔“ اس روایت کے راوی عمر بن فضل بن عتبہ ضعیف ہیں اور سفیان بن ضیاء اور حجاج بن نصر بھی ضعیف ہیں۔