سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ ، نا أَبِي ، نا بَقِيَّةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : قَالَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ " . عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلا رَآهُ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَجْهُولانِ.محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”ہر بہنے والے خون کے نکلنے سے وضو لازم ہو جاتا ہے۔“ اس روایت کے راوی عمر بن عبدالعزیز نے تمیم داری سے احادیث کا سماع نہیں کیا اور ان کی زیارت بھی نہیں کی، جبکہ اس روایت کے دو راوی یزید بن خالد اور یزید بن محمد دونوں مجہول ہیں۔