سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شُعْبَةَ بْنِ جَوَّانٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ، نا جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الزِّمَّانِيِّ ، بِهَذَا أَنَّهُ رَعَفَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْدِثْ لَهُ وُضُوءًا " . عَمْرٌو الْقُرَشِيُّ . هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ كَذَّابٌ.محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”ان کی نکسیر پھوٹ پڑی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی وجہ سے دوبارہ وضو کرو۔“ اس روایت کا راوی عمرو قرشی، عمرو بن خالد، ابوخالد واسطی ہے، جو متروک الحدیث ہے۔ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے یہ بات بیان کی ہے: ”ابوخالد واسطی کذاب ہے۔“