سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 575
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الْبَزَّازُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ رَزْءًا أَوْ قَيْئًا أَوْ رُعَافًا فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ " .محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کے پیٹ میں گڑ گڑاہٹ محسوس ہو یا اسے قے آئے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے، وہ واپس جائے (وضو کرے) اور واپس آکر وہیں سے نماز ادا کرے، جہاں سے چھوڑ کر گیا تھا، یہ اس وقت ہے، جب اس نے کسی کے ساتھ کلام نہ کیا ہو۔“