سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سِرَاجٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالا : نا حَفْصٌ الْفَرَّاءُ ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَلْسُ حَدَثٌ " . سَوَّارٌ مَتْرُوكٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَيْدٍ غَيْرُهُ.محمد محی الدین
امام زید بن علی اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”کھٹا ڈکار آنے سے یا (قے آنے سے) وضو ٹوٹ جاتا ہے۔“ اس روایت کا راوی سوار ہے، یہ متروک ہے، اور اس کے علاوہ اور کسی نے اس روایت کو سیدنا زید کے حوالے سے نقل نہیں کیا۔