سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَجَدَ رُعَافًا أَوْ قَيْئًا أَوْ مَذْيًا أَوْ قَلْسًا فَلْيَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ لِيُتِمَّ عَلَى مَا مَضَى مَا بَقِيَ ، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَتَّقِيَ أَنْ يَتَكَلَّمَ " .محمد محی الدین
ابن جریج اپنے والد کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کی نکسیر پھوٹ پڑے یا قے آ جائے یا کھٹا ڈکار آ جائے، تو وہ وضو کرے اور جتنی نماز گزر چکی تھی، اسے آگے مکمل کر لے، جو باقی رہ گئی ہے، اور اس کے ساتھ وہ اس بات سے بچے کہ وہ کسی کے ساتھ کوئی کلام کرے۔“