سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، قَالا : نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَعَفَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ أَوْ قَلَسَ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَلِيَرْجِعْ فَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ عَلَى مَا مَضَى مِنْهَا مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ " .محمد محی الدین
ابن جریج اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کسی شخص کی نماز کے دوران نکسیر پھوٹ پڑے یا اسے قے آ جائے، وہ واپس جائے، وضو کرے اور واپس آکر وہیں سے نماز کو آگے پورا کرے، جہاں سے وہ چھوڑ کر گیا تھا، (یہ حکم اس وقت تک ہے)، جب تک اس نے کلام نہ کیا ہو۔“