سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، أَوْ قَلَسَ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَلْيَبْنِ عَلَى صَلاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ " .محمد محی الدین
ابن جریج اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کسی شخص کو نماز کے دوران قے آ جائے یا کھٹا ڈکار آ جائے، تو وہ واپس جائے اور وضو کرے اور اپنی نماز وہیں سے پڑھے (جہاں سے چھوڑ کر گیا تھا)، یہ اس وقت ہے، جب اس نے کلام نہ کیا ہو۔“ ابن جریج بیان کرتے ہیں۔