سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَهُمْ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، أَوْ قَلَسَ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ " . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : فَإِنْ تَكَلَّمَ اسْتَأْنَفَ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کسی شخص کو نماز کے دوران قے آ جائے یا کھٹا ڈکار آ جائے، تو وہ واپس جائے، وضو کرے اور جتنی نماز پڑھ چکا تھا، وہی سے آگے پڑھنا شروع کر دے۔ یہ اس وقت ہے، جب اس نے درمیان میں کوئی کلام نہ کیا ہو۔“ ابن جریج نے یہ بات نقل کی ہے: ”اگر وہ کلام کر لے گا، تو نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“