سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي لَمْسِ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَالذَّكَرِ وَالْحُكْمِ فِي ذَلِكَ باب: : (عورت کا اپنی) اگلی یا پچھلی شرمگاہ یا مرد کا اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کا حکم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ فَرْوَةَ الْبَلَدِيُّ أَبُو رَوْحٍ ، نا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ فِي الصَّلاةِ ؟ فَقَالَ : " وَهَلْ هِيَ إِلا بَضْعَةٌ مِنْهُ أَوْ مُضْغَةٌ " . كَذَا قَالَ أَبُو رَوْحٍ.قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم ایک وفد کی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی، ایک شخص آیا، وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آدمی کے نماز کے دوران اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) ”گوشت کا ٹکڑا ہے۔“