سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي لَمْسِ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَالذَّكَرِ وَالْحُكْمِ فِي ذَلِكَ باب: : (عورت کا اپنی) اگلی یا پچھلی شرمگاہ یا مرد کا اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کا حکم
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُؤَسِّسُونَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَهُمْ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نَنْقُلُ كَمَا يَنْقُلُونَ ؟ قَالَ : " لا وَلَكِنِ اخْلِطْ لَهُمُ الطِّينَ يَا أَخَا الْيَمَامَةِ ، فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ " . فَجَعَلْتُ أَخْلِطُ لَهُمْ وَيَنْقِلُونَهُ .سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لوگ اس وقت مدینہ منورہ کی مسجد بنانے میں مصروف تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ اس وقت پتھر منتقل کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میں بھی اسی طرح نہ کروں، جیسے یہ لوگ (پتھر) منتقل کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! بلکہ تم انہیں گارا بنا دو، اے یمامہ کے رہنے والو! کیونکہ تم اس میں ماہر ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں بنا دیا اور وہ لوگ اسے لے کر جانے لگے۔