حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ مَرْوَانَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ وَكَانَتْ قَدْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلا يُصَلِّيَنَّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ : فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عُرْوَةُ ، فَسَأَلَ بُسْرَةَ : فَصَدَّقَتْهُ بِمَا قَالَ . هَذَا صَحِيحٌ . تَابَعَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَامِيُّ ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَحُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ ، فَرَوَوْهُ عَنْ هِشَامٍ هَكَذَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ قَالَ عُرْوَةُ : فَسَأَلْتُ بُسْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَدَّقَتْهُ.
محمد محی الدین

سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہے، یہ بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو وہ اس وقت تک نماز ادا نہ کرے، جب تک وضو نہ کر لے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: عروہ نے اس بات کا انکار کیا، تو انہوں نے بسرہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو بسرہ نے ان کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کی۔ یہ بات مستند ہے۔ بعض دیگر راویوں نے اس کی مطابقت کی ہے، جس میں یہ بات بھی مذکور ہے: عروہ فرماتے ہیں: ”میں نے بسرہ سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 527
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 127 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 33، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1112، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 163 ، 446 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 181، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 82، 83، 84، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 751، 752، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 479، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 527، 528، 529، 530، 533، 536، 537، 539،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1113، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 355، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22100»
«قال البخاري: أحاديث الوضوء من مس الفرج أصحها حديث بسرة، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 188) »