سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 518
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " فِي قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسِّهِ بِيَدِهِ مِنَ الْمُلامَسَةِ ، وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ " . صَحِيحٌ.محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: انہوں نے آدمی کے اپنی بیوی کو بوسہ دینے اور ہاتھ سے چھونے کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”یہ ملامست کا حصہ ہے، تو جو شخص اپنی بیوی کا بوسہ لے اور ہاتھ کے ذریعے اسے چھوئے، تو اس پر وضو لازم ہو جاتا ہے۔“ یہ روایت مستند ہے۔