سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 517
حَدَّثَنَا الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي قُتَيْلَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ ، فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا " . صَحِيحٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”بوسہ لینا لمس (جس کا ذکر قرآن میں ہے) کا حصہ ہے، تو تم اس کے بعد وضو کرو۔“ یہ روایت مستند ہے۔