سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 510
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ ، نا حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . هَذَا خَطَأٌ مِنْ وُجُوهٍ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لے لیتے تھے، جب کہ آپ روزے کی حالت میں ہوتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ اس میں کئی حوالوں سے خطا موجود ہے۔