سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ الْمُقْرِئُ ، قَالا : نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا أَبُو بَدْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ لا يُحْدِثُ وُضُوءًا " . قَوْلُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ وَهْمٌ ، وَإِنَّمَا أَرَادَ غَالِبَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ هُوَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ ضَعِيفٌ ، وَلَيْسَ بِالَّذِي يَرْوِي عَنْهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر از سر نو وضو نہیں کیا کرتے تھے۔ یہاں پر راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت عبداللہ بن غالب سے منقول ہے، یہ وہم ہے۔ ان کی مراد یہ تھی: یہ غالب بن عبیداللہ سے منقول ہے، اور یہ راوی متروک ہے۔