سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 506
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو بَكْرٍ الْجَوْهَرِيُّ ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُهَا ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . قَالَ : وَكَانَ عَطَاءٌ لا يَرَى فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءًا .محمد محی الدین
عمرو بن شعیب، سیدہ زینب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ عطاء کے نزدیک بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔