حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ الدِّمَشْقِيُّ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نا هِشَامٌ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ امْرَأَتَهُ وَيَلْمِسُهَا ، أَيَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ؟ فَقَالَتْ : " لَرُبَّمَا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبَّلَنِي ثُمَّ يَمْضِي فَيُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . زَيْنَبُ هَذِهِ مَجْهُولَةٌ وَلا تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ.
محمد محی الدین

عمرو بن شعیب، سیدہ زینب کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا کہ جو اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، اسے چھو لیتا ہے، تو کیا اس شخص پر وضو کرنا لازم ہو گا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور پھر میرا بوسہ لے لیتے اور پھر تشریف لے جاتے اور نماز ادا کرتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“ اس روایت کی راوی زینب مجہول ہے اور اس طرح کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 505
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 170، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 155، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 178، 179، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 86، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 502، 503، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 484، 485، 486، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24967»
«قال الدارقطني: يرويه عمرو بن شعيب عن زينب عن عائشة وزينب هذه مجهولة حدث به عن عمرو بن شعيب الحجاج بن أرطاة والعرزمي وهما ضعيفان العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (15 / 162)»