سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ الدِّمَشْقِيُّ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نا هِشَامٌ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ امْرَأَتَهُ وَيَلْمِسُهَا ، أَيَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ؟ فَقَالَتْ : " لَرُبَّمَا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبَّلَنِي ثُمَّ يَمْضِي فَيُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . زَيْنَبُ هَذِهِ مَجْهُولَةٌ وَلا تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ.عمرو بن شعیب، سیدہ زینب کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا کہ جو اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، اسے چھو لیتا ہے، تو کیا اس شخص پر وضو کرنا لازم ہو گا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور پھر میرا بوسہ لے لیتے اور پھر تشریف لے جاتے اور نماز ادا کرتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“ اس روایت کی راوی زینب مجہول ہے اور اس طرح کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔