سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . هَذَا حَدِيثُ غُنْدَرٍ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، غَيْرُ أَبِي رَوْقٍ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَلا نَعْلَمُ حَدَّثَ بِهِ عَنْهُ غَيْرُ الثَّوْرِيِّ ، وَأَبِي حَنِيفَةَ ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ فَأَسْنَدَهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَسْنَدَهُ أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ وَكِلاهُمَا أَرْسَلَهُ ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّمِيمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ وَلا مِنْ حَفْصَةَ وَلا أَدْرَكَ زَمَانَهُمَا . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فَوَصَلَ إِسْنَادَهُ . وَاخْتُلِفَ عَنْهُ فِي لَفْظُهُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ . وَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُقَبِّلُ وَلا يَتَوَضَّأُ " ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے اور وضو کرنے کے بعد آپ (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ وکیع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ابن مہدی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس (اپنی اہلیہ) کا بوسہ لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوعاصم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کی سند میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لے لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کیا کرتے تھے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے!۔