سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اللَّبَّانِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي النَّجْمِ ، بِالرَّافِقَةِ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ .محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے، پھر اپنی اہلیہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ان دونوں کا لفظ ایک ہی ہے۔